صاف گوئی

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - واضح اور غیر مبہم خیال، سلامت، ایہام یا گنجلک سے پاک بات کہنا۔ "یہ اردو کی محبت ہی ہے جو مجھے نہایت افسوس کے ساتھ صاف گوئی پر مجبور کر رہی ہے۔"      ( ١٩٨٤ء، ترجمہ: روایت اور فن، ٥٦ )

اشتقاق

عربی سے مشتق اسم صفت 'صاف' کے ساتھ فارسی مصدر 'گفتن' سے فعل امر 'گو' بطور لاحقہ فاعلی ملنے سے مرکب توصیفی 'صاف گو' کے بعد 'ی' بطور لاحقہ کیفیت بڑھانے سے 'صاف گوئی' حاصل ہوا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ اور سب سے پہلے ١٧٦٥ء کو "دیوان زادہ حاتم" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - واضح اور غیر مبہم خیال، سلامت، ایہام یا گنجلک سے پاک بات کہنا۔ "یہ اردو کی محبت ہی ہے جو مجھے نہایت افسوس کے ساتھ صاف گوئی پر مجبور کر رہی ہے۔"      ( ١٩٨٤ء، ترجمہ: روایت اور فن، ٥٦ )

جنس: مؤنث